حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- سب سے افضل سب سے اعظم
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- امام المرسلیں آئے
- اک خواب سناواں