خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں