خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال