رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
مہک رچی ہے جنت کی اسکے پاک نظاروں میں
جن کا ہر دم یاد میں تیری کھویا کھویا گزرے ہے
مجھے بھی آقا شامل کر لو دید کے ان بیماروں میں
چاند کی چاندی دن کا اجالا صلیِ علیٰ کا صدقہ ہے
نورِ محؐمد کی ہی ضیاء ہے عرشِ بریں کے تاروں میں
شانِ محؐمد شانِ خدا ہے آپکی مانند کون ہوا ہے
سب سے بر تر سب سے اعلیٰ قدرت کے شاہکاروں میں
انکی عظمت انکی شوکت کون بتائے کیسے بتائے
انکے خادم انکے درباں رب کے خاص پیاروں میں
محبؔوب کمینہ کیونکر آقا تیری نظر سے گزرے گا
غوث قطب ابدال ولی سب طیبہ کے مے خواروں میں
رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
حالیہ پوسٹیں
- قصیدۂ معراج
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ