سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- سیف الملوک
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث