سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- صانع نے اِک باغ لگایا
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- بھر دو جھولی میری یا محمد