سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے