سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- اک خواب سناواں
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود