سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- میرے مولا کرم کر دے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے