سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- رب دے پیار دی اے گل وکھری