حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- رُبا عیات
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- امام المرسلیں آئے
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی