حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- قصیدۂ معراج
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- ایمان ہے قال مصطفائی
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے