حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- سب سے افضل سب سے اعظم
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- رُبا عیات
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں