حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں