حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو