نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- تُو کجا من کجا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا