نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- چھائے غم کے بادل کالے
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- تُو کجا من کجا
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں