وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
آج دنیا کو غمِ دنیا گوارا ہو گیا
ڈوبنے والے نے اُن کا نامِ نامی جب لیا
موج ساحل بن گئی طوفاں کنارا ہو گیا
اللہ اللہ نشۂ صہبائے الفت کا سُرور
دل کی آنکھیں کُھل گئیں اُن کا نظارا ہو گیا
مرحبا اے وسعتِ ذ یلِ خطا پوشِ نبی
عاصیوں کو منہ چھپانے کا سہارا ہو گیا
شوق سے مجھ کو فرشتے لے چلیں سوئے جحیم
میں نہ بولوں گا اگر اُن کو گوارا ہو گیا
بس ابھی ہوتے ہیں طے یہ نیک و بد کے مرحلے
آپ یہ فرما تو دیں تحسیؔں ہمارا ہو گیا
صدر العلماء حضرت علامہ محمد تحسین رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ
وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
حالیہ پوسٹیں
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- میرے مولا کرم کر دے
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں