پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- صانع نے اِک باغ لگایا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- تُو کجا من کجا
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں