پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو