پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- تیری شان پہ میری جان فدا
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ