پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- قصیدۂ معراج
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں