کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اک خواب سناواں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث