کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- چھائے غم کے بادل کالے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے