کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- بھر دو جھولی میری یا محمد