کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- سیف الملوک
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- قصیدۂ معراج
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں