کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- صانع نے اِک باغ لگایا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ