خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسل داور خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم
نورمجسم، نیّر اعظم، سرور عالم، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم، خضر کے رہبر، صلی اللہ علیہ وسلم
فخر جہاں ہیں، عرش مکاں ہیں، شاہ شہاں ہیں، سیف زباں ہیں
سب پہ عیاں ہیں آپ کے جوہر، صلی اللہ علیہ وسلم
قبلہء عالم، کعبہ اعظم، سب سے مقدم راز کے محرم
جان مجسم، روح مصور، صلی اللہ علیہ وسلم
دولتِ دنیا خاک برابر، ہاتھ کے خالی دل کے تونگر
مالک کشور تخت نہ افسر، صلی اللہ علیہ وسلم
رہبر موسیٰ، ہادیء عیسٰی ، تارک دنیا، مالک عقبٰی
ہاتھ کا تکیہ، خاک کا بستر، صلی اللہ علیہ وسلم
سروخراماں، چہرہ گلستاں، جبہ تاباں، مہر درخشاں
سنبل پیچاں، زلف معنبر ، صلی اللہ علیہ وسلم
مہر سے مملو ریشہ ریشہ، نعت امیر اپنا ہے پیشہ
ورد ہمیشہ رہتا ہے لب پر ، صلی اللہ علیہ وسلم
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
حالیہ پوسٹیں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں