طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
خاکِ طیبہ کے ذروں کی شان و شوکت مت پوچھو
کملی والے کی امت کا شرف جو ہم کو بخشا ہے
کتنی ہوئی ہے ہم پہ یارو رب کی رحمت مت پوچھو
کملی والے کی بستی میں آنکھوں نے جو دیکھا ہے
کتنی ملی ہے اس سے لوگو دل کو راحت مت پوچھو
رحمتِ عالم نورِ مجسم کی اس دنیا میں آمد
کتنی ارفع اور اعلیٰ ہے رب کی نعمت مت پوچھو
میرے نبی کا ایک اشارہ چاند کے ٹکڑے کرتا ہے
کملی والے کو حاصل ہے کتنی قدرت مت پوچھو
انکی اداؤں ہی کو رب نے اپنی عبادت گردانا
کملی والے سے ہے کیسی رب کی چاھت مت پوچھو
طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
حالیہ پوسٹیں
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے