پنجابی نعت
میرے اتے کرم کما سوھنیا
مینوں وی تے در تے بلا سوھنیا
میرے لیکھاں وچ وی مدینہ لکھدے
تیری گل من دا خدا سوھنیا
تیری اُچی شان نالے سب نالوں وکھری
رب تیری چاہندا اے رضا سوھنیا
میں وی نعت پڑھاں تیرے در تے کھلو کے
پوری کر میری وی دعا سوھنیا
ہجر وچھوڑے مینوں رول سُٹیا
ہور کنی ملنی سزا سوھنیا
بابِ جبرئیل اُتے میں وی رج کے
لواں تیری دید دا مزا سوھنیا
بنا تیرے کون میرے معاف کریگا
لمے چوڑے جرم و خطا سوھنیا
کنی ٹھنڈی مٹھی تے مہک نال پُر
طیبہ وچ وگدی ہوا سوھنیا
جہدی چھانویں بہندے سارے نبی تے ولی
مینوں وی او گنبد وکھا سوھنیا
قدماں چ تیرےمیرے مُکن ایہہ ساہ
ایہو محبوؔب دی دعا سوھنیا
میرے اتے کرم کما سوھنیا
حالیہ پوسٹیں
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- سب سے افضل سب سے اعظم
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- چار یار نبی دے چار یار حق
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا