کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- قصیدۂ معراج
- امام المرسلیں آئے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- انکی مدحت کرتے ہیں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا