ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
تیرے کرم دے صدقے جاواں مینوں سد لو مدینے آقا
حج کر کے حاجی چلے چلے او طیبہ ولے
اونہاں سانبھ سانبھ کے بنیاں سوھنے دیاں یاداں پلے
کئی عمراں پچھوں چلے کئی چلے پہلے ھلے
اینج لگدا اے دنیا ٹر گئی اساں رہ گئے کلم کلے
تیرے در تے عید مناواں مینوں سد لو مدینے آقا
تیرے کرم دے صدقے جاواں مینوں صد لو مدینے آقا
میری آس امید دے دیوے کرے بجھ نہ جاون آقا
میرے دل دے باغ دے پَھل پُھل کرے سک نہ جاون آقا
جیہڑے تیری دید دے طالب کرے سکھ نہ پاون آقا
ایہہ ساہ وی ادھارے میرے کرے مک نہ جاون آقا
ھن سن لو میری دعاواں مینوں سد لو مدینے آقا
تیرے کرم دے صدقے جاواں مینوں سد لو مدینے آقا
وچ ہجر دے لمیاں راتاں اکھیاں لاون برساتاں
جو گزرن تیرے در تے او راتاں سب شب راتاں
ھُن پل وی لگدا مینوں اک صدی برابر شاہا
مینوں ہجر نے مار مکانا دیو دید دیاں سوغاتاں
دن رات میں ہاڑے پاواں مینوں سد لو مدینے آقا
تیرے کرم دے صدقے جاواں مینوں سد لو مدینے آقا
ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
حالیہ پوسٹیں
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ