یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- تیری شان پہ میری جان فدا
- تُو کجا من کجا
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے