یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو