آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
دھوم سے نکلے میرا جنازہ میری میت مدینے کو جائے
لے کے بانہوں میں پیارے نبی کو کہ رہی تھی یہ دائی حلیمہؓ
اللہ اللہ چہرہ نبی کا جو بھی دیکھے وہ قربان جائے
عظمتِ مصطفی کیا بیاں ہو شان میرے نبی کی نہ پوچھو
بحرِ تعظیم سارا زمانہ ان کی چوکھٹ پے سر کو جھکائے
ہے سہارا ہمیں مصطفی کا چھوڑدے چھوڑتی ہے جو دنیا
ہم سے دامن نبی کا نہ چھوٹے چاہے سارا جہاں چھوٹ جائے
زائرانِ مدینہ کی عظمت کوئی پوچھے میرے دل سے پرنمؔ
ان کی آنکھوں کے قربان جاؤں جو دیار نبی دیکھ آئے
آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
حالیہ پوسٹیں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- رُبا عیات
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- دعا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو