تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو