حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- صانع نے اِک باغ لگایا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں