حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- ایمان ہے قال مصطفائی
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا