خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں