خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے