ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل