ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا