ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں