ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- اک خواب سناواں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے