ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- امام المرسلیں آئے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز