ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے