ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا