سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں