سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- قصیدۂ معراج
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا