مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
وہ رحمتِ حق کے خزانوں کا مالک
عرش کا فرش کا زمیں کا فلک کا
وہ سارے مکاں لامکانوں کا مالک
زمانوں میں پنہاں ہے ساری خدائی
میرا کملی والا زمانوں کا مالک
خلیلِ خدا ہوں یا روحُ الامیں ہوں
وہ دونوں جہاں کے اماموں کا مالک
نہیں کچھ بھی اسکی قلمرو سے باہر
وہ سب کائناتوں کی جانوں کا مالک
کوئی بات اس سے ہو پوشیدہ کیونکر
جو ہر دل کی خفتہ اذانوں کا مالک
ہو تعریف کیسے کما حَقُہٗ
جو ہو عرش و کرسی کی شانوں کا مالک
زمیں آسمانوں کا خالق خدا ہے
محؐمد زمیں آسمانوں کا مالک
منافق ہے دل گر عقیدہ نہیں ہے
ہے میرا نبی حق کی شانوں کا مالک
کسی بھی مکر سے وہ غافل نہیں ہے
وہ سب ماکروں کے بہانوں کا مالک
کروں کیا میں محبؔوب مدح سرائی
وہ سب بازباں بے زبانوں کا مالک
مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
حالیہ پوسٹیں
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- دعا
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں