نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- دعا
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا