ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- قصیدۂ معراج
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے