ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- چھائے غم کے بادل کالے
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں