ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا