ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- تُو کجا من کجا
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا