ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے