ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- رُبا عیات
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں