ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- تُو کجا من کجا
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر