ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- سیف الملوک
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام