ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- سب سے افضل سب سے اعظم
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- سیف الملوک
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے