ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ