ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی