ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- تُو کجا من کجا
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی