ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- رُبا عیات
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- امام المرسلیں آئے
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں