ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ