ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے