ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو