ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- تُو کجا من کجا
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے