ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے
آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے
آستانِ حبیب خدا چایئے
اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
بس یہی عزت و مرتبہ چایئے
ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
حالیہ پوسٹیں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں