ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- سب سے افضل سب سے اعظم