ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- ذاتِ والا پہ بار بار درود