کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
ہر کوئی اپنے واسطے نام تیرا جپا کرے
خالقِ کائنات بھی عرش کی جلوہ گاہ میں
ذکر تیرا کِیا کرے ذکر تیرا سنا کرے
اپنے خالق کی طرح تو بھی ہے پردوں میں نہاں
تیری شان کو بیاں کوئی کرے تو کیا کرے
جسکو بھی تیری ذات سے نسبت ہوئی دمک گیا
جو تیرے در پہ جھک گیا نار سے کیوں ڈرا کرے
بن دیکھے جسکی چاہ میں لاکھوں تڑپ رہے ہیں دل
محبوؔب دیکھ لے وہ در خود آنکھ سے خدا کرے
کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
حالیہ پوسٹیں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- میرے مولا کرم ہو کرم
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- امام المرسلیں آئے
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص