لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے