حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا