حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے