ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
تیری غلامی کا دم بھرنا اچھا لگتا ہے
تیری نسبت سے طیبہ کی دل میں عقیدت اور چاہت ہے
یہاں پہ آنکھوں کے بل چلنا اچھا لگتا ہے
جس نے تیرے پاؤں چومے اس دھرتی کے ذروں کو
سرمہ بنا کے آنکھ میں بھرنا اچھا لگتا ہے
ہر اِک سانس ہے تیری امانت تیری چاہت رب کی چاہت
تیری محبت ہی میں جینا اچھا لگتا ہے
پہرے داروں کے پہرے میں اور چھڑیوں کی چھاؤں میں
روضے کی جالی کو چومنا اچھا لگتا ہے
جن گلیوں کو تجھ سے نسبت وہ عشاق کی منزل ہیں
ان گلیوں میں سجدے کرنا اچھا لگتا ہے
سارے ملائک اور خالق بھی تجھ پہ درود و سلام پڑھیں
ذکر تیرا صبح شام میں کرنا اچھا لگتا ہے
ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا