تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- چھائے غم کے بادل کالے
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- تُو کجا من کجا
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- سب سے افضل سب سے اعظم
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں