تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- چھائے غم کے بادل کالے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی