تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے