تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے