طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- رُبا عیات
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض