طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- دعا
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- تلو مونی علی ذنب عظیم