طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ایمان ہے قال مصطفائی
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے