طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
ہر ویلے اکو ای کلام کریے
دل وچ وسدا اے اکو ای خیال
طیبہ وچ جندڑی نیلام کریے
طور نہ جنتاں دی لوڑ سانوں
ہر گھڑی طیبہ دے ای نام کریے
رب کولوں اکو ای دعا منگیے
طیبہ وچ وسنا دوام کریے
طیبہ دیاں گلیاں دے وچ بیٹھ کے
آقا تے درود تے سلام کریے
طیبہ جا کے مُڑ آنا جچدا نیئیں
طیبہ وچ پکا ای قیام کریے
روضے دیاں اکھاں نال چُم جالیاں
زندگی دا سفر تمام کریے
طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
حالیہ پوسٹیں
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- دعا
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- انکی مدحت کرتے ہیں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے