طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
خاکِ طیبہ کے ذروں کی شان و شوکت مت پوچھو
کملی والے کی امت کا شرف جو ہم کو بخشا ہے
کتنی ہوئی ہے ہم پہ یارو رب کی رحمت مت پوچھو
کملی والے کی بستی میں آنکھوں نے جو دیکھا ہے
کتنی ملی ہے اس سے لوگو دل کو راحت مت پوچھو
رحمتِ عالم نورِ مجسم کی اس دنیا میں آمد
کتنی ارفع اور اعلیٰ ہے رب کی نعمت مت پوچھو
میرے نبی کا ایک اشارہ چاند کے ٹکڑے کرتا ہے
کملی والے کو حاصل ہے کتنی قدرت مت پوچھو
انکی اداؤں ہی کو رب نے اپنی عبادت گردانا
کملی والے سے ہے کیسی رب کی چاھت مت پوچھو
طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
حالیہ پوسٹیں
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- تُو کجا من کجا
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے