میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا