میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- اک خواب سناواں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے