میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- صانع نے اِک باغ لگایا
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- چار یار نبی دے چار یار حق
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں