میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ