یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
یہ زمیں آپ کی آسماں آپ کا
رحمت عالمیں آپ کی ذات ہے
سب یہ لطف کرم ہے عیاں آپ کا
آپ کا ذکر کرتی ہے ہردم زباں
قلب کرتا ہے ہردم بیاں آپ کا
عاصیوں کے لیے جز ندامت ہے کیا
آسرا ہے شفیع زماں آپ کا
اس کو رہتی ہے ہردم مدینے کی دھن
یہ جو بہزاد ہے نعت خواں آپ کا
یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
حالیہ پوسٹیں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- چار یار نبی دے چار یار حق
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے