تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- سیف الملوک
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا