خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
تیری شان سب سے جدا مانتے ہیں
تیری نعت کا حق ادا نہ ہوا ہے
خطاوار ہیں ہم خطا مانتے ہیں
تیرا ذکرِ اقدس ہے تسکیں دلوں کی
تیرا ذکر ذکرِ خدا مانتے ہیں
تیرا نام تریاق سب مشکلوں کا
تیرا نام دل کی جلا مانتے ہیں
تیری اتباع اتباعِ خدا ہے
تیرا حکم حکمِ خدا مانتے ہیں
تو محبوبِ حق تو ہی مطلوبِ حق ہے
تجھے سب جہاں آسرا مانتے ہیں
خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- ایمان ہے قال مصطفائی
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں