سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
تیرا نام سن کے تیرا یہ غلام جھومتا ہے
جو ملا مقام جس کو وہ ملا تیرے کرم سے
تو قدم جہاں بھی رکھے وہ مقام جھومتاہے
میں نے جس نماز میں بھی تیرا کر لیا تصور
میرا وہ رکوع و سجدہ وہ قیام جھومتاہے
تیرے نام نے عطا کی میرے نام کو بھی عظمت
تیرا نام ساتھ ہو تو میرا نام جھومتاہے
تیرے مے کدے میں آیا تو کھلا یہ راز طاہرؔ
تیرے ہاتھ سے ملے جو وہی جام جھومتاہے
سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ