عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
خدا بھی ہے خود نعت خوانِ محؐمد
شرف یہ صرف انس و جاں کو نہیں
ملائک بھی ہیں خادمانِ محؐمد
کوئی اس تعلق کو کیا نام دیوے
کلامِ خدا ہے زبانِ محؐمد
سمٹ جائیگا پُل بھی حیرت کے مارے
گزر جائے گا کاروانِ محؐمد
ٹھٹھرتی ہے دوزخ بھی جنکے ذکر سے
ہیں کتنے بلند عاشقانِ محؐمد
تو محبؔوب گر رب کا دیدار چاہے
نگاہوں سے چوم آستانِ محؐمد
عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
حالیہ پوسٹیں
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا