میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم
میں تو بے سہارا ہوں دامن بھی ہے خالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
غم کے اندھیروں نے گھیرا ہوا ہے
آقا دشوار اب جینا میرا ہوا ہے
بگڑی بنادو میری طیبہ کے والی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
جس کو بلایا گیا وہ ہی عرش بریں ہے
آپ کے سوا ایسا کوئی نہیں ہے
جس کی نہ بات کوئی رب نے بھی ٹالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم۔
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
حالیہ پوسٹیں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- قصیدۂ معراج
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا