میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حیرت سے گم کھڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں اک حقیر ذرہ تیری رحمتوں کے صدقے
خالق سے مل گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیری نعت یا محمد خالق کا ورد ٹھہرا
میں نعت خواں بنا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
نہ پاس زادِ راہ ہے نہ ہی کوئی قافلہ ہے
طیبہ کو چل پڑا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
جھولی عمل سے خالی میں بے نوا سوالی
تیرے در پہ آگیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
تیرے در کی نعمتوں میں تیری پاک محفلوں میں
میں سراپا کھو گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
حالیہ پوسٹیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- ایمان ہے قال مصطفائی