تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
حالیہ پوسٹیں
- تُو کجا من کجا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- امام المرسلیں آئے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا