خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے