لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی